سات سو سال پرانی ساوی مسجد

ساوی مسجد

ملتان شہر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مزارات کا شہر ہے۔ یہاں تقریباً ہر محلے میں کسی نہ کسی بزرگ کا مزار موجود ہے۔

لیکن یہاں مزارات کے ساتھ ساتھ ایسی مساجد کی تعداد بھی کم نہیں جو تاریخی اعتبار سے بہت اہمیت رکھتی ہیں۔

ان میں سے بیشتر مساجد کی تعمیر مغلیہ دور میں ہوئی ہیں اور ان میں میں مغل آرٹ اور ملتان کی روایتی کاشی گری کا استعمال نہایت خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔

ملتان کی ان تاریخی مساجد میں ساوی مسجد بھی شامل ہے۔ 

ساوی مسجد ملتان کے محلہ کوٹلہ تولے خان میں واقع ہے۔

اسے نواب سعید خان قریشی نے مغٖل بادشاہ شاہ جہاں اور اورنگزیب کے دور، یعنی سولہویں صدی عیسوی میں بطور عید گاہ تعمیر کوروائی تھی۔ مگر اب یہاں پنجگانہ نماز کی ادائیگی کی جاتی ہے۔

چونکہ یہ مسجد عید گاہ کے طور پر تعمیر کی گئی تھی،

اس لئے اس کی چھت نہیں ہے، چھت کی جگہ ایک ترپال لگا دیا گیا ہے جو نمازیوں کو دھوپ اور بارش سے بچاتا ہے۔

ساوی مسجد اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس مسجد کی تعمیر میں دو رنگ یعنی نیلا اور فیروزی استعمال ہوا ہے، سرائیکی زبان میں فیروزی رنگ کو سبزی یا ساوی کہتے ہیں۔

اس مسجد کا شمار ملتان کی قدیم مساجد میں ہوتا ہے۔

اس کی طرز تعمیر عام مساجد سے مختلف ہے، مسجد میں گنبد کی بجائے بیس سے زیادہ محرابیں بنائی گئیں ہیں،

ان محرابوں میں قرآنی آیات خطاطی میں لکھی گئی ہیں۔

ایک اور خاص بات یہ ہے کہ اس کی دیواروں پر نہ صرف قرآنی آیات کندہ ہیں

بلکہ فارسی کے مشہور شاعر جامی اور ابو سعد الخیر کے اشعار تحریر ہیں۔

ساوی مسجد کا بیرونی منظر

اخلاق احمد قادری نے اپنی کتاب تاریخ و تمدن ملتان میں ان فارسی اشعار کا مفہوم ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔

“خون جگر پینا یعنی اپنی حالت پر افسوس کرنا ،شراب پینے اور بے خبر ہو جانے سے بہتر ہے۔ کیوں کہ غمگین کے لئے آہ و زاری شراب کی بے خودی سے زیادہ بہتر ہے۔

ائے گوئیے آو خوشی کی دھن چھوڑ دیں اور شادمانی کے باجوں کے تار اُکھڑیں، کیوں کہ موت کے چنگل سے بھاگ نہیں سکتے۔ باجوں کے تار کاٹ دینا چاہئے۔ اب تو دنیا کا حال سن چکے، خدا وند تعالیٰ کے بغیر کسی اور چیز سے دل لگانا عبث ہے۔”

سیّد زاہد علی واسطی اپنی کتاب ‘دیکھ لیا ملتان’ میں لکھتے ہیں کہ چبوترے کے داخلی دروازے کے اندر بائیں جانب ایک قبر قاضیِ شہر سلطان کریم اُلدین خان کی ہے، جس کو پھانسی دی گئی تھی۔

چبوترے کے صحن کے بالکل درمیان میں غربی دیوار سے سات فٹ کے فاصلے پر دو قبریں ساتھ ساتھ ہیں، جن میں ایک بہااُلدین خان اور دوسری کشو خان گورنر ملتان کی ہے۔

دونوں کی کھالیں اُتروا کر دفن کی گیا تھا، جن کے کتبے شمالی سمت لگانے کی بجائے جنوبی سمت میں لگائے گئے ہیں۔ یہ سنگی کتبے چار اور تین فٹ سطح زمین سے بلند ہیں۔

ان کتبوں پر سہ طرفی قرآنی آیات اور درمیان میں مرثیہ خوبصورت حاشیوں کے ساتھ کندہ ہیں۔

یہ کتبے عربی و فارسی میں سنگی کندہ کاری کے نوادرات میں سے ہیں۔

اخلاق احمد قادری اپنی مذکورہ بالا کتاب میں ساوی مسجد کا احوال اس طرح بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں

کہ 1305 میں جب غیاث الدین تغلق اپنے زمانہ گورنری کے دوران نہ صرف مشہور زمانہ روضہ شاہ رکن عالم تعمیر کیا،

بلکہ بیرون لوہاری دروازہ ایک حویلی بھی تعمیر کروائی جس کے اردگرد جو آبادی ہو گئی وہ کوٹلہ تغلق خان کہلائی۔

نواب تغلق خان کی تعمیر کردہ حویلی تو اب نہیں رہی مگر شاہ رکن عالم کا مزار و ساوی مسجد اب تک قائم ہے اور کوٹلہ تغلق خان اب کوٹلہ تولے خان کہلاتا ہے۔

اخلاق احمد قادری کے مطابق سر ایڈورڈ میکلیگسن نے جو پہلے ملتان کے منتظم تھے

اور پھر گورنر پنجاب بنے، اپنے مرتب کردہ گزیٹر ملتان میں لکھتے ہیں

کہ سبز مسجد کی عمارت کے نیچے ایک تہ خانہ ہے جس میں صندوق زنجیروں سے لٹکے ہوئے ہیں

مسجد کے شمالی گوشے میں نواب میر آغا اور نواب اصغر علی کے مزارات ہیں، جو اس عہد کے عمائدین ملتان میں سے تھے۔

محکمہ آثار قدیمہ کے ایس ڈی او غلام محمد نے بتایا گیا تھا کہ ساوی مسجد کی مرمت کا کام تین سال سے جاری ہے

اور اس کے لئے 32 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں، لیکن مسجد کی حالت کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اس کی مرمت کئی برسوں سے نہیں ہوئی۔

مسجد کی دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، نمازیوں کے وضو کے لئے کوئی خاص انتظام نہیں۔

سیاحوں کی رہنمائی کے لئے لگایا جانے والا بورڈ زنگ آلود ہو چکا ہے اور مشکل سے پڑھا جاتا ہے۔ 

کوٹلہ تولے خان کے ایک رہائشی جو مسجد کے قریب ہی رہتے ہیں اور اس کی دیکھ بھال کرنے والوں میں شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسجد کا انتظام محکمہ آثار قدیمہ کے ہاتھ میں ہے۔

ہم اس کی مرمت یا کوئی اور کام نہیں کروا سکتے ہیں، اور نہ ہی چندہ دے سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مسجد کی حالت اب قدر بہتر ہے،

اس سے پہلے اس کی شمالی و جنوبی دیواریں تقریباً گر چکی تھیں، ان دیواروں کو دوبارہ تعمیر کیا گیا

اور بعد میں اس کی مرمت کا کام بھی ہوا ہے، اس کی مرمت میں اس بات کا خاص خیال رکھا ہے

کہ اس کی اصل شکل تبدیل نہ ہونے پائے۔

ملتان کی تاریخ تقریباً پانچ ہزار سال قدیم بیان کی جاتی ہے،

لیکن یہاں کے تاریخی ورثے کو محفوظ کرنے کے لئے کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا

جس کی وجہ سے بیشتر تاریخی عمارات کا اب وجود نہیں رہا

اور جو عمارات باقی بچی ہیں وہ بھی متعلقہ حکام کی عدم توجہ کے باعث آہستہ آہستہ کھنڈر میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔

اگر ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تو آنے والے کچھ برسوں میں ان کا وجود بھی نہیں رہے گا۔ 

مسجد کے صحن میں گورنر بہااُلدین خان اور کشو خان کی قبروں کے کتبے
50% LikesVS
50% Dislikes

سات سو سال پرانی ساوی مسجد” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں